Ghazal

آآ بہار تجھ کو گلے سے لگاؤں میں
آآ بہار پھر سے تجھے چھیڑ جاؤں میں
آجا بہار پھر سے کوئی سر تو چھیڑ دے
آ تیرے ساتھ گیت کوئی گنگناؤں میں
تیری ہوا میں جیسے شرابیں گھلی ہوئیں
پاؤں تجھے تو سارے ہی غم بھول جاؤں ًٰمیں
تیرے وفور عشق نے جل تھل کیا مجھے
ہی اب کپکپاؤں میں اتنا کہ ہر اک آن
یا رب تو ہاتھ تھام مرا اس کی خیر ہو
نہ ڈ گمگاؤں میں محشر کی یہ گھڑی ہے یوں
بحر عشق ہو گیا میرے لیے حیات یہ
اب پار جاؤں یا کہ یہیں ڈوب جاؤں میں
نکلے کبھی وہ حبس سے گوندھی فضا ؤں سے
باد صبا کے ساتھ یوں ہی سرسراؤں میں
تو کھلکھلا کے ہنس دے کسی بات پہ مری
موج ہوا کی طرح تجھے گدگداؤں میں
شاخوں کے سایوں میں جب چمکے سنہرا چاند
دھر تی پہ دھیرے دھیرے کبھی کسمسا ؤں میں
تیر اخیال تیری توجہ نہ پا کے میں
بسمل کے جیسے صبح و مسا پھڑپھڑاؤں میں
وہ مجھ کو بھول جائے کسی خواب کی طرح
آنکھوں کے پانیوں میں فقط جھلملاؤں میں

Advertisements

2 Replies to “Ghazal”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s